Chapter 1 of 1

Chapter 1: خاموش آنسو اور بے رحم رات

128.5M words

سرد ہوا کے تیز جھونکے کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے شیشے سے اندر داخل ہو کر پورے کمرے کو منجمد کر رہے تھے۔ پرانی اور بوسیدہ چھت سے پانی کی بوندیں ایک ایک کر کے فرش پر گر رہی تھیں۔ ہر گرتی ہوئی بوند کی آواز اس گہری خاموشی میں کسی ہتھوڑے کی طرح دل پر لگتی تھی۔ "ابو، پلیز ایک بار میری طرف دیکھیں!" زویا نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ باپ کے نیلے پڑتے ہوئے گالوں پر رکھے۔ اس کی انگلیاں ٹھنڈی برف کی طرح ہو چکی تھیں، لیکن اس کے باپ کا جسم اس سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہو رہا تھا جیسے زندگی دھیرے دھیرے اس کا ساتھ چھوڑ رہی ہو۔ بستر پر لیٹے امیر علی کی اکھڑتی سانسیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وقت بہت کم بچا ہے۔ ان کی دھندلی آنکھیں چھت کے ایک کونے پر جمی ہوئی تھیں، جہاں مکڑی کا پرانا جالا ہوا میں ہل رہا تھا۔ ہر سانس کے ساتھ ان کے سینے سے ایک ایسی گھرگھراہٹ نکلتی تھی جو زویا کے جگر کو چیر دیتی تھی۔ کمرے کے دوسرے کونے میں بیٹھی زاہدہ بیگم اپنے میلے دوپٹے سے منہ چھپائے سسکیاں لے رہی تھیں۔ مٹی کے دیے کی مدہم اور کانپتی ہوئی روشنی ان کے چہرے کی جھریوں کو اور بھی گہرا دکھا رہی تھی۔ ان کے ہاتھ میں موجود تسبیح کے دانے تیزی سے گھوم رہے تھے، لیکن ان کے لبوں پر اب کوئی دعا باقی نہیں رہی تھی، صرف ایک گہرا خوف تھا۔ "ہمارے پاس اب دوا کے لیے ایک پیسہ بھی نہیں بچا، زویا!" ماں کی آواز اس ویران کمرے میں ایک ماتم کی طرح گونجی۔ "ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر آج رات انہیں وہ مہنگی دوا نہ ملی تو وہ دم توڑ دیں گے، اور ہم اتنے بے بس ہیں کہ اپنے سہاگ کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔" بارش کی تیز بوندیں اب کچی دیواروں کو اپنے ساتھ بہانے پر تلی ہوئی تھیں۔ زویا نے اپنے کانپتے ہوئے وجود کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن اس کے اندر کا خوف اسے کمزور کر رہا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھا، جو کبھی اس کا مان ہوا کرتا تھا، اور اب وہ مان مٹی میں ملنے کے قریب تھا۔ "میں تایا ابو کے پاس جا رہی ہوں، امی!" زویا کا یہ جملہ سنتے ہی زاہدہ بیگم نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں التجا اور غصہ ایک ساتھ ابھر آیا، جیسے وہ اس فیصلے کے نتائج سے اچھی طرح واقف ہوں۔ زاہدہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس کا بازو اتنی زور سے پکڑا کہ اس کی انگلیاں زویا کی جلد میں دھنس گئیں۔ "ساجد علی کبھی تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ وہ وہ انسان ہے جس نے اپنے سگے بھائی کو سڑک پر لا کھڑا کیا۔ وہ تمہاری عزت نفس کو پامال کر دے گا، لیکن ایک ٹکا بھی نہیں دے گا۔" "मुझे अपनी इज्जत की कोई परवाह नहीं है, امی!" زویا نے نہایت سختی سے اپنا بازو چھڑایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اب غصے کی چنگاریوں میں تبدیل ہو چکے تھے، اور اس نے اپنے سر پر چادر کو مضبوطی سے لپیٹ لیا۔ "جب میرے باپ کی زندگی داؤ پر لگی ہو تو میری انا کوئی معنی نہیں رکھتی۔" دروازے کی زنجیر کھولتے ہی سرد ہوا کا ایک زبردست جھونکا اندر داخل ہوا، جس نے مٹی کے دیے کو بجھا دیا۔ کمرہ ایک دم گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا، لیکن زویا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور تاریکی میں ہی باہر کی طرف دوڑ پڑی۔ --- تنگ اور اندھیری گلیوں میں کیچڑ اس کے پاؤں کو جکڑ رہا تھا، لیکن اس کے قدموں کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بارش کا پانی اس کے چہرے پر اس طرح گر رہا تھا جیسے آسمان خود اس کی بے بسی پر ماتم کر رہا ہو۔ گلی کے آوارہ کتے دور سے بھونک رہے تھے، لیکن زویا کو صرف اپنے باپ کی اکھڑتی سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ بارش کا پانی چادر کو بھگو کر اس کے جسم کو شل کر رہا تھا، لیکن اس کے اندر جلتی ہوئی آگ اسے رکنے نہیں دے رہی تھی۔ اس نے ماضی کے وہ خوبصورت دن یاد کیے جب اس کے ابو اسے اپنے کندھوں پر بٹھا کر میلے میں لے جاتے تھے۔ وہ کتنے خوش تھے، لیکن تایا ساجد کی لالچ نے ان سے سب کچھ چھین لیا۔ بڑی کوٹھی کے سامنے پہنچ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکی۔ یہ ساجد علی کا محل نما گھر تھا، جہاں ہر طرف روشنیوں کا سیلاب تھا اور امیروں کی آسائشیں بکھری ہوئی تھیں۔ اس گھر کی اونچی دیواریں جیسے زویا کی غربت کا مذاق اڑا رہی تھیں۔ لوہے کے بھاری اور سرد دروازے پر اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے دستک دینا شروع کی۔ "تایا ابو! دروازہ کھولیں! خدا کے لیے باہر آئیں!" اس کی آواز گلی میں گونجنے لگی، لیکن بارش کے شور نے اسے مزید مدہم کر دیا۔ کئی منٹ کی مسلسل فریاد کے بعد بالآخر چوکیدار نے غصے سے بھرا چہرہ دروازے کی دراڑ سے نکالا۔ "کون ہو تم؟ اور اس طوفانی رات میں یہاں کیوں مرنے آ گئی ہو؟ جاؤ یہاں سے، صاحب لوگ سو رہے ہیں!" اس نے زویا کو دھکا دینے کی کوشش کی۔ "بھیا، خدا کے لیے مجھے تایا ابو سے ملنے دو!" زویا نے چوکیدار کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔ اس کے گھٹنے سڑک کے گندے پانی میں ٹیک چکے تھے، اور وہ ایک بھکاری کی طرح گڑگڑا رہی تھی۔ "میرے ابو کی حالت بہت خراب ہے، وہ چند گھنٹوں کے مہمان ہیں، ہمیں دوا کے لیے پیسے چاہئیں۔" اندرونی برآمدے کا بڑا ہال کھلا اور وہاں سے ساجد علی اپنی ریشمی، مہنگی شال اوڑھے باہر نکلے۔ ان کے ہاتھ میں گرم کافی کا مگ تھا، جس سے اٹھتا ہوا دھواں ان کی پرآسائش زندگی کی گواہی دے رہا تھا۔ ان کے چہرے پر ایک سرد اور مغرور مسکراہٹ ابھری۔ "کیا تماشہ ہے یہ، رحمان؟" ساجد علی کی رعب دار آواز نے چوکیدار کو خاموش کر دیا۔ انہوں نے زویا کی طرف دیکھا، لیکن ان کی آنکھوں میں کوئی ہمدردی نہیں تھی، بلکہ صرف ایک گہری نفرت اور بیزاری تھی۔ "تایا ابو!" زویا چوکیدار کی گرفت سے خود کو چھڑاتی ہوئی برآمدے کی طرف بھاگی اور ساجد علی کے پاؤں پکڑ لیے۔ "میرے ابو سکرات میں ہیں! وہ آپ کے سگے بھائی ہیں۔ خدا کے لیے ہمیں کچھ پیسے دے دیں، میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں دن رات کام کر کے آپ کا ایک ایک روپیہ چکا دوں گی!" ساجد علی نے انتہائی بے رحمی سے اپنا پاؤں پیچھے کھینچا، جس سے زویا کا سر سنگمرمر کے ٹھنڈے فرش سے جا ٹکرایا۔ "بھائی؟ امیر علی نے سالوں پہلے میرا بھائی ہونے کا حق کھو دیا تھا جب اس نے خاندانی جائیداد کے کاغذات پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔ اب وہ اپنی ضد کی سزا بھگت رہا ہے، اور میں اس پر ایک پیسہ بھی ضائع نہیں کروں گا۔" کمرے سے ساجد علی کی بیوی، بیگم ثریہ بھی باہر آ گئیں۔ انہوں نے اپنے سونے کے کنگنوں کو درست کرتے ہوئے نفرت سے زویا کو دیکھا۔ "ساجد، اس کم ذات لڑکی کو یہاں سے نکالو۔ دیکھو اس نے ہمارے قیمتی فرش کو کتنا گندا کر دیا ہے۔ ان غریبوں کا تو کام ہی یہی ہے، جب دیکھو مانگنے چلے آتے ہیں۔" "تائی جی، میرا باپ مر رہا ہے!" زویا نے بلکتے ہوئے کہا۔ "آپ لوگ اتنے بے حس کیسے ہو سکتے ہیں؟ کیا آپ کے سینے میں دل نہیں ہے؟ کیا خاندانی جائیداد ایک انسان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟" "بند کرو یہ بکواس!" ساجد علی نے غصے سے چوکیدار کو اشارہ کیا۔ "رحمان، اسے دھکے دے کر باہر نکالو اور دوبارہ کبھی اس خاندان کا کوئی فرد ہمارے دروازے پر نظر نہ آئے۔" رحمان نے زویا کے گیلے بالوں سے پکڑ کر اسے بے دردی سے گھسیٹا اور باہر سڑک پر کیچڑ کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ لوہے کا وزنی دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گیا، جس نے زویا کی آخری امید کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ آسمان پر بجلی کا ایک خوفناک کڑکڑاہٹ پیدا ہوا، جس کی روشنی میں زویا کا نڈھال وجود سڑک پر پڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے اپنے گیلے اور مٹی سے لت پت ہاتھوں کو دیکھا اور پھر اس بند دروازے کی طرف، جس کے پیچھے اس کے اپنے خون نے اسے رد کر دیا تھا۔ --- واپسی کا راستہ طویل ترین اور اذیت ناک تھا۔ زویا کے پیروں سے چپل غائب ہو چکی تھی اور تیکھے پتھر اس کے تلووں کو زخمی کر رہے تھے، لیکن اس کے دل کا زخم اتنا گہرا تھا کہ اسے جسمانی درد کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے دماغ میں ساجد علی کے وہ تلخ الفاظ گونج رہے تھے۔ گلی میں ایک بھیانک اور گہری خاموشی طاری تھی، جیسے وہاں زندگی کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہا ہو۔ اس کے کچے مکان کا لکڑی کا پرانا دروازہ ہوا کے دباؤ سے دھیرے دھیرے ہل رہا تھا اور ایک عجیب سی چڑچڑاہٹ کی آواز پیدا کر رہا تھا۔ کپکپاتے ہوئے قدموں کے ساتھ وہ صحن پار کر کے کمرے کے اندر داخل ہوئی۔ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، لیکن ہوا میں پھیلی ہوئی خاموشی نے اس کے وجود کو خوف سے بھر دیا۔ "امی..." زویا کی کانپتی ہوئی آواز نکلنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن گلے میں ہی دم توڑ گئی۔ اس نے بستر کی طرف قدم بڑھائے جہاں اس کا باپ لیٹا ہوا تھا اور جہاں اب بالکل سکون تھا۔ زاہدہ بیگم زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھیں، ان کا سر باپ کے بستر سے ٹکا ہوا تھا۔ وہ بالکل ساکت تھیں، نہ کوئی سسکی، نہ کوئی آنسو، بس ایک منجمد کر دینے والا سکوت کمرے میں پھیلا ہوا تھا جو سب کچھ بیان کر رہا تھا۔ "ابو، میں آ گئی ہوں..." زویا نے آگے بڑھ کر امیر علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ ہاتھ جو کبھی اسے دنیا کا سب سے محفوظ احساس دیتا تھا، اب برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور بے جان ہو چکا تھا۔ ان کی نبض بالکل خاموش ہو چکی تھی۔ موت نے بالآخر اس غریب کٹیا کا رخ کر ہی لیا تھا اور امیر علی غربت کی جنگ ہار کر اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ زویا نے اپنے باپ کے چہرے سے چادر ہٹائی، ان کی آنکھیں اب بھی آدھی کھلی تھیں جیسے وہ آخری وقت تک اپنی بیٹی کا انتظار کر رہے ہوں۔ "امی! اٹھیں امی، دیکھیں ابو بول کیوں نہیں رہے؟" زویا نے اپنی ماں کے کندھے کو جھنجھوڑا، لیکن زاہدہ بیگم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کا وجود صدمے کی اس انتہا پر پہنچ چکا تھا جہاں انسان پتھر کا بن جاتا ہے اور اس کی آنکھیں خالی ہو جاتی ہیں۔ بجلی کے چمکنے سے کمرے میں ایک سیکنڈ کے لیے روشنی پھیلی، اور زویا کی نظر اپنے باپ کے دائیں ہاتھ پر پڑی۔ ان کی مٹھی مضبوطی سے بند تھی، جیسے وہ مرتے دم بھی کسی ایسی چیز کی حفاظت کر رہے ہوں جو ان کی زندگی سے زیادہ اہم تھی۔ انتہائی احتیاط اور لرزتے ہوئے ہاتھوں سے زویا نے اپنے مردہ باپ کی انگلیوں کو ایک ایک کر کے کھولا۔ ان کے ہاتھ کے اندر کاغذ کا ایک پرانا اور پیلا پڑ چکا ٹکڑا دبا ہوا تھا، جس پر خون کے خشک دھبے واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔ کاغذ کو کھولتے ہی زویا کی آنکھیں حیرت اور صدمے سے پھیل گئیں کیونکہ اس پر ساجد علی کے دستخط تھے اور ایک ایسی تحریر لکھی تھی جس نے زویا کے پورے خاندان کی بربادی کا سچا اور بھیانک راز کھول کر رکھ دیا تھا، ایک ایسا سچ جو امیر علی نے اپنی پوری زندگی اپنی بیٹی سے چھپائے رکھا تھا اور جس کے افشا ہوتے ہی زویا کے دل میں انتقام کی ایک ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔

End of Chapter 1